زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























سکردو؛ رہبرِ شہید کی یاد میں تعزیتی ریفرنس، رہبرِ شہید کی شہادت نے عالمی استکبار کے فریب کو بے نقاب کیا، مقررین حوزہ علمیہ جامعۃ النجف سکردو بلتستان قرآن خوانی اور ایک باوقار و روح پرور مجلسِ ترحیم کا انعقاد،
آیت اللہ شہید سید ابراہیم رئیسی اور رفقاء کے ایصال ثواب کے لیے مجلس ترحیم کا انعقاد سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی حفظہ اللہ کی جانب سے شیخ رحمت علی ہال سولجر بازار کراچی میں ہوا،
وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی برادری رفح میں اسرائیلی آپریشن روکنے کےفیصلے پرفوری عمل کرائے، رفح میں آپریشن روکنے سے دنیا میں امن کی راہ ہموار ہوگی۔
امام جمعہ مرکزی جامع مسجد سکردو پاکستان علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے گزشتہ روز خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے ایرانی صدر کی شہادت کو ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا اور کہا کہ سید ابراہیم رئیسی اور دیگر شخصیات کی شہادت پر امت مسلمہ سوگوار ہے۔
ایران نے انقلاب اسلامی کے بعد بہت مشکل دن دیکھے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ وزیراعظم اور صدر شہید ہو گئے۔ لوگ امام خمینی کے پاس آئے اور کہا کہ اہم شخصیات شہید کر دی گئی ہیں۔ تو آپ نے تسلی دی اور کہا اللہ کو جن سے پیار ہوتا ہے انہیں جلد اٹھا لیتا ہے
تعزیتی ریفرنس سے علامہ سید رضی جعفر نقوی، علامہ شبیر حسن میثمی، علامہ باقر زیدی، معراج الہدیٰ صدیقی، علامہ شیخ محمد سلیم، علامہ اصغر حسین شہیدی، علامہ باقر حسین زیدی، علامہ محمد حسین رئیسی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔
شیعہ علماء کونسل کے رہنمائوں نے کہا کہ غم اور دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم ایرانی سوگوار قوم کے ساتھ کھڑی ہے، ایرانی صدر اور اُن کی رفقاء کی شہادت عالم اسلام کا نقصان ہے، استعمار مسلسل انقلاب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے لیکن یہ شہداء کے خون کی تاثیر ہے کہ انقلاب روز بروز مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملت اسلامیہ کے لئے یہ بہت بڑا سانحہ ہے، سید ابراہیم رئیسی دیگر اسلامی ممالک اور بالخصوص فلسطین و غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی بھرپور حمایت کر رہے تھے۔
وفد نے رہبر معظم انقلاب، ملت ایران اور شہداء کے خاندانوں تک تعزیت پہنچائی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ کابینہ کے اہم وزراء پر مشتمل وفد بھی ہے، وزیراعظم کا اپنے انتخاب کے بعد یہ متحدہ عرب امارات کا پہلا دورہ ہے۔