صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بورڈ آف ٹرسٹیز آف مدینہ العلم ٹرسٹ کے رکن نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ چہاردہ معصومین علیہم السلام کے صدقے میں مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عنایت فرمائے۔
طلبہ قائدین نے کہا کہ امریکہ، یورپ اور دنیا بھر کے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ جو غزہ میں جنگ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ہم ان کے ہم آواز ہیں ہم USA میں طلباء کیخلاف کریک ڈاؤن کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ثقافتی قونصلر مجید مشکی نے معزز مہمانوں کو اس تقریب میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ عالمی فیملی ڈے پر غزہ کے ان بے بس خاندانوں کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جو ایک عرصے سے صیہونی ظلم سہہ رہے ہیں اور صہیونی دہشتگرد گروہ نے انکی سرزمین پر قبضہ کرکے انہیں بے گھر کر دیا ہے۔
محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نقوی کے بھائی، آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی اور علامہ قاضی نیاز حسین نقوی کے چچازاد بھائی حجۃ الاسلام مولانا باقر حسین نقوی انتقال کر گئے ہیں۔
نماز جنازہ میں مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، مسئول شعبہ خدمت زائرین دفتر قائد ملت نجف اشرف مولانا مجیر محمد میثمی بھی موجود تھے۔
علامہ امین شہیدی نے کہا کہ مغربی دنیا کا فلسطین کی حمایت میں قیام مذہبی نہیں، نظریاتی ہے۔ یہ قیام اس سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہے جس کی بنیاد غیر منصفانہ پالیسیز پر رکھی گئی ہے۔ اہلِ مغرب کی بیداری اِس چیز کی علامت ہے کہ جب انسان کا شعور بلند ہوتا ہے تو پھر اسے کسی ہادی کے بغیر بھی سچائی کا راستہ نظر آتا ہے۔
نماز جنازہ حجتہ الاسلام والمسلمین آیت اللہ سید حسین مرتضی دامت برکاتہ کی اقتداء میں محفل شاہ خراسان کراچی میں ادا کر دی گئی
مہم کے افتتاح کے موقع پر رئیس کلیہ معارف اسلامی ڈاکٹر زاہد علی زاہدی، رئیس کلیہ فنون ڈاکٹر شائستہ تبسم اور رئیس کلیہ علوم(سائنس) ڈاکٹر تبسم نے بھی اپنے دستخط کیے، جس کے بعد جامعہ کراچی کے اساتذہ، طلبہ و ملازمین کی بڑی تعداد آرٹس لابی میں جمع ہوتی گئی اور دستخطی مہم میں حصہ لیا۔
انکے قریبی دوست جناب محمد شریف صاحب ریٹائرڈ اانکم ٹیکس کمشنر لاہور یوں تحریر فرماتے ہیں کہ علامہ مفتی جعفر حسین نجفی مرحوم کی عزت نفس اور استغناء کا یہ عالم تھا کہ کہیں مجلس پڑھنے جاتے تو اکثر اوقات اختتام مجلس پر جلسہ گاہ سے سیدھے منزل کی طرف روانہ ہو جاتے