صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
اس مطالعاتی دورے کی خاصیت بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ پانچ مراحل پر مشتمل ہے۔ سب سے پہلے کتاب کا مطالعہ، پھر خلاصہ نویسی پھر گروہی مباحثہ اس کے بعد ارائه اور آخر میں تفکر و تعقل شامل ہے۔
حجت الاسلام میراحمدی نے مزید کہا: علماء کرام کو یونیورسٹی کے طلبہ سے شفقت اور دلجوئی سے بات کرنی چاہئے اور انہیں یہ علم ہونا چاہئے کہ ان کے قول و فعل کا ان پر کتنا عمیق اثر مرتب ہو گا۔
حضرت آیت اللہ سبحانی نے طلباء کو درسِ اخلاق دیتے ہوئے کہا: چار حرف پڑھ لینے کے بعد ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ علوم کی کنجی ہمارے ہاتھ میں آ گئی ہے۔ علوم کی کنجی خدا کے ہاتھ میں ہے، انبیائے الہیٰ کے پاس ہے۔ ہمیں اس سلسلہ میں بھی انکساری سے کام لینا چاہئے۔
امام جمعہ قم نے اسلامی مزاحمت، خاص طور پر حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مزاحمتی قوتیں امت مسلمہ کی بقا اور وقار کی علامت ہیں
آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے نظام کے اشخاص پر منحصر نہ ہونے کو رہبر کے فوری انتخاب کے عمل میں پہناں ایک حقیقت بتایا اور کہا کہ یہ تبدیلی دکھاتی ہے کہ اگرچہ کچھ لوگوں کی کچھ ذمہ داریاں ہیں جنھیں انجام پانا چاہیے لیکن نظام ان پر منحصر نہیں ہے اور وہ ان افراد کے بغیر بھی اپنا راستہ جاری رکھ سکتا ہے۔
شیرین سعیدی نے مزید کہا: "حضرت زینب (س) اسلامی خواتین کے لیے ایک ایسی مثال ہیں جنہوں نے عظیم مقاصد کی راہ میں اپنی جان کو فدا کیا اور حجاب، دیانت، صبر و تقویٰ کی بہترین مثال بنیں، ہماری خواتین اور نوجوانوں کو حضرت زینب (س) کے اس نورانی کردار سے روشناس ہونا چاہیے۔"
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے فرامین میں خدا اور قیامت پر ایمان، صبر و برداشت، حالات سے آگاہی، مخاطب شناسی، حدود الٰہی خصوصاً حیا اور عفت کی پابندی کو بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
قم المقدسہ کے ٹی وی اور ریڈیو براڈکاسٹنگ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل، احمد پہلوانیان نے اپنے کارکنوں کے ہمراہ جامعة الزہرا سلاماللهعلیها کی مدیر سیدہ زہرہ برقعی سے ملاقات کی، جس میں دونوں اداروں کے تعاون اور یکجہتی کو بڑھانے پر زور دیا گیا۔
امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح پر غزہ فلسطینیوں کے حقوق کی علمبردار تنظیم حماس کے ترجمان کا ردعمل سامنے آگیا۔