مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
شیعہ اور سنی بھائیوں کے درمیان اسلامی بھائی چارے کی مضبوطی اور افغانستان میں اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان دوستی اور محبت پیدا کرنے پر زور دیا
کشمیر جیسے خطوں پر جس طرح قبضہ کیاگیا یہ طے شدہ ملکی حصے نہیں بلکہ مقبوضہ علاقے ہیں جو کسی طریقے سے بھی اٹوٹ انگ نہیں ہوتے
حجۃ الاسلام والمسلمین سعیدی آریا نے کل رات حرم حضرت معصومہ (س) میں قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایاحساب کتاب میں الہی قوانین ہمارے دنیاوی قوانین سے بہت مختلف ہیں۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے کہا ہے کہ قرآن کے مطابق ،سود اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے مترادف ہے۔
سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت اور آیت اللہ مصباح یزدی اور شیخ شہید نمر النمر سمیت متعدد علماء کی برسی مناسبات ہمارے پیش نظر رہیں۔ اسی طرح ہم نے نسیم عطاوی کو بھی کھو دیا جو ایک عالم، واعظ، اور مجاہد تھے، میں ان سب کے لیے آپ سب کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اصولوں اور بنیادی تعلیمات کو محفوظ رکھتے ہوئے اسلامی انجمنوں کے اپ ٹو ڈیٹ رہنے کو آج کے حالات میں ایک اور ضروری امر قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ عدل و انصاف جیسے کچھ اصول اور تعلیمات دائمی اور اٹل ہیں جو ہزاروں سال پہلے سے ہیں اور ان میں فرسودگي نہیں آتی لیکن انصاف کے نفاذ کے طریقے میں تبدیلی اور جدت طرازی کا امکان پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کی نگاہ میں اہم ترین چیز یہ ہے کہ ہم نے اپنے اس زندگی سے کیا حاصل کیا آیات الٰہی کی نظر میں زندگی ایک سرمایہ ہے اور ہم نے اس سرمایہ کو کیسے استعمال کیا ہے اور اس سے کیا فائدہ حاصل کیا ہے اورکتنا ہم نے رضایت الہی کو حاصل کر نے میں اپنی زندگی صرف کیا ہے۔
نشست کا باقاعدہ آغاز قاری محترم سجاد ساجدی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ اور سکریٹری شعبہ تحقیق جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان سجاد شاکری نے نشست کی نظامت کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ گذشتہ سال میں بھی امت مسلمہ کا وقار اور حیثیت مجرو ح رہی اور امت مسلمہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کے اقدامات تشنہ تکمیل رہے ۔ ماضی کی غلطیوں کے ازالہ کےلئے خود احتسابی کا رویہ اپنا کر اور آئین و قانون پر عمل پیرا ہونے کا عہد کرکے نئے سال کا آغا ز کیا جائے۔