صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
انصار اللہ یمن کے سربراہ سید بدر الدین عبد الملک الحوثی نے روز عاشورا کی مناسبت سے اپنے خطاب میں قیام امام حسین ﴿ع﴾ کے فلسفے کی وضاحت کی اور زور دیا کہ امریکہ اور غاصب اسرائیل کا رویہ اور طرز فکر امام حسین ﴿ع﴾ کے دشمنوں کے رویے اور طرز فکر کے تسلسل میں ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے یوم عاشور کی مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای کی قیادت میں طاقتور اسلام کا ہراول دستہ باقی رہے گا۔
حوزہ علمیہ الامام المنظر قم اور وفاق ٹائمز کے مسئولین نے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان شعبہ قم کے مدیر علامہ علی اصغر سیفی اور دیگر پسماندگان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس عظیم سانحے پر تمام لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
یوم عاشور کا مرکزی جلوس حسینیہ ابوالفضل العباس قم سے برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا شام کو حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا پہنچ کر اختتام پزیر ہوا۔ پاکستان اور قم کی مختلف ماتمی سنگتوں اور اور نوحہ خوانوں نے دوران جلوس ماتم داری کروائی۔
یوم عاشور حرم امام رضا علیہ السلام میں حضرت ابا عبد اللہ الحسین (ع) کے سوگ میں ماتمی داری اور مجالس کا انعقاد کیا گیاجس میں عزاداروں کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی اورظہر عاشور کے وقت حرم امام رضا علیہ السلام کے رواق امام خمینی(رہ) میں نماز با جماعت کا اہتمام کیا گیا جس کے بعد زیارت عاشورا سو لعن اور سو سلام کے ساتھ پڑھی گئی۔
سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی جانب سے اپنی حیات طیبہ کے آخری لمحات میں دشمن کے لشکر سے تاریخی خطاب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سید الشہداء نے یزیدی لشکر سے کہا تھا کہ "اگر تمھارے پاس دین نہیں ہے تو کم از کم اپنے دنیوی امور میں آزاد رہو۔" حجۃ الاسلام رفیعی نے کہا کہ حریت کا مطلب ہے نفسانی خواہشات اور میلانات سے انسان کی اندرونی آزادی۔
شب عاشور کو تہران کے حسینیہ امام خمینی میں مجلس عزائے سید الشہداء کا انعقاد ہوا جس میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے شرکت کی۔
شب تاسوعا یا نویں محرم کی شب، حسینیۂ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ میں سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزا منعقد ہوئي جس میں رہبر انقلاب اسلامی آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شرکت کی۔
حرم مطہر رضوی کے اردو زبان خطیب حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر فاضل علی فاضل صاحب نے ’’معرفت امام ‘‘ کے موضوع پر خطاب فرمایا، مجلس کے اختتام پر ماتم داری بھی ہوئی اورزائرین کو حرم امام علی رضا علیہ السلام کے متبرک دسترخوان پر غذا تناول کرنے کے لئے دعوت نامہ بھی دیا گیا۔