غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























مدرسہ سبطین الدینیہ نجف اشرف میں حضرت آیت اللہ فقیہ اہل بیت سماحة السيد محمد سعيد الحكيم قدس الله سرہ کے چہلم کی مناسبت سے ایک مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا۔
غواڑی بلتستان میں شرپسندوں کی جانب سے روز عاشورا کے پر امن ماتمی جلوسوں پر پتھراؤ کرنے اور ماحول کو خراب کرنے کی مذموم کوشش پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے امام جمعہ سکردو حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد حسن جعفری نے کہا کہ عاشورا کے دن غواڑی میں رونما ہونے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور عزاداری کا تعلق نواسہ رسول ﷺ سے ہے۔ ان دونوں کی توہین کسی صورت قابلِ برداشت نہیں ہے۔
علامہ محمد افضل حیدری کا کہنا تھا کہ قرآن میں جن مقامات پر بھی صاحبان ایمان کا ذکر کیا گیا ہے وہاں یہ نہیں کہا گیا کہ صرف ایمان کافی ہے؛ بلکہ علی والوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن ہمیں ایمان کے ساتھ ساتھ عمل صالح کا بھی درس دیتا ہے۔
ائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے عاشورا محرم الحرام 1443ھ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ عاشورا حریت کی ایک تعبیر بن چکا ہے اور جب بھی عاشورہ کا ذکر ہوا تو انسان کے ذہن میں امام حسینؑ اور ان کی لازوال قربانی کا نقش اجاگر ہوا۔روز عاشور سے قبل شب عاشور بھی اپنے اندر ایک الگ تاریخ کی حامل ہے جب امام ؑ عالی مقام نے عاشورا کے حقائق سے اپنے ساتھیوں ، جانثاروں اور بنو ہاشم کو آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ عاشورا برپا ہونے کی عملی شکل کیا ہوگی؟
عزاداران امام مظلومؑ نے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کی اقتدا میں باجماعت نماز ظہرین ادا کی۔
پنجاب کے ڈسٹرکٹ بہاولنگر میں یوم عاشورہ حملہ جلوس پر دو کریکر حملے ہوئے ہیں،حملے 4 افراد شہید 20 کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے. پولیس نے موقع پر ایک مشکوک شخص کو بھی گرفتار کر لیا ہے.
انہوں نے کہا کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر محرم کمیٹی دن رات کام کررہی ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل20کے مطابق تمام مکاتب فکر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اپنے عقائدکے مطابق آزادی کےساتھ عبادات اور رسومات ادا کریں۔ کوئی ایگزیکٹوآرڈر یا SOP عوام کے بنیادی حقوق کوغصب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے کہا ہے کہ شہدائے کربلاءکی یاد اسلامی ،انسانی اقدار کی ترویج کی ضامن ہے۔ اسلامی تعلیمات کے بیان سے مجالسِ عزاتعلیمی اور تربیتی درس گاہوں کا کردار ادا کرتی ہیں۔قرآنی تعلیمات کے ابلاغ کے لئے منبرِ حُسینی صدیوں سے بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔
مدینہ سے روانگی سے قبل اپنے بھائی جناب محمد بن حنفیہ کے نام خط میں لکھا ” میں فتنہ و فساد برپا کرنے یا اپنی شہرت کے لئے نہیںبلکہ اپنے جد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے امور کی اصلاح کے لئے نکل رہا ہوں۔میں نے نیکیوں کاحکم دینے،برائیوں سے روکنے اور اپنے جد بزرگوار اور والد علی ابن ابی طالب کی سیرت کی پیروی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔۔۔۔“
خدا نے ہمیں مکتب حسینی کے نام سے ایک معلم اخلاق عطا کیا ہے۔آپ(ع) نے جب مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا ہجرت کرنے کا ارادہ کیا تو اسی وقت سمجھا دیا کہ میرا قیام شہادت کے لئے ہے۔میری شہادت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے ہے ، میری شہادت اس لئے ہے کیونکہ دین اسلام خطرے میں پڑ گیا ہے اور میں تیار ہو گیا ہوں تاکہ دین اسلام کو نجات دوں لہذا اس سلسلے میں دین اسلام پر اپنا سب کچھ قربان کردوں گا اور فرماتے تھے کہ«أَلَا تَرَوْنَ أَنَ الْحَقَ لَا یُعْمَلُ بِهِ وَأَنَّ الْبَاطِلَ لَا یُتَنَاهَی عَنْهُ لِیَرْغَبِ الْمُؤْمِنُ فِی لِقَاءِ اللَّهِ مُحِقّا» [2]