صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مولانا عبدالرزاق سکندر کی اچانک رحلت پر ان کے سوگوارخاندان، شاگردوں، عقیدتمندوں اور وفاق المدارس العربیہ کے اراکین کی خدمت میں تسلیت و تعزیت پیش کی گئی ہے
عمران خان نے سوال اٹھایا کہ ہم تعلقات میں جانبداری کامظاہرہ کیوں کریں ، ہم سب سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، لہذا کچھ بھی ہوجائے اور چاہے جتنا بھی دباؤ ہو پاک چین تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے، دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات بہت اچھے ہیں اور سیاسی تعلقات بہت مضبوط ہیں، ہر بین الاقوامی فورم پر پاکستان چین ہمیشہ ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
جامعہ الحسین الشہید علیہ السلام لقمان خیرپور میں اس سال جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی عمامہ گذاری تقریب منعقد ہوئی۔
رہبر معظم کی حکیمانہ تدبیر کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات کا انعقاد اور جناب عالی کا حسن انتخاب پوری دنیا میں امت مسلمہ کے لئے مسرت و شادمانی کا باعث بنا۔ اس موقع پر اپنی اور پاکستان کے تمام دینی مدارس کی طرف سے جناب عالی کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔
علامہ فدا حسین مظاہری نے علامہ عابد الحسینی کی صحت یابی کیلئے خصوصی دعا کی، اسی موقع پر قومی امور اور خصوصاً ضلع کرم کے موجودہ حالات پر بھی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا اور مغربی طاقتوں کا پاکستان کو جانب دارہونے پر مجبور کرنا درست نہیں، کسی دباؤ کی صورت میں چین سے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیر محمد حسین محنتی نے کہا کہ 4 جولائی کو کراچی تا کشمور مہنگائی کیخلاف احتجاجی مظاہرے ہونگے، کمر توڑ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے۔
اپنے ایک بیان میں خطیب مسجد باب العلم نے کہا کہ مسلمان باہمی اتحاد کیلئے کام کریں، کیونکہ اس وقت ہمارا دشمن ہمارے مقابلے میں متحد ہے اور اگر ہم اب بھی یکجا نہ ہوئے تو مزید نقصان ہوگا۔
نجف اشرف میں ہزاروں طلبا زیر تعلیم تھے لیکن سامراء میں جہاں دو ائمہ مدفون ہیں طلبا کی تعداد بہت کم تھی۔جب مراجع نے وہاں حوزہ علمیہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو سب سے پہلے مرحوم شیخ عسکری نے سب سے پہلے گھربار کے ساتھ وہاں جانے کے لئے آمادگی کا اظہار کیا پھر ان کے ساتھ چودہ خاندانوں نے آمادگی ظاہر کی جو اس پر خطر دور میں ایک بڑی قربانی تھی۔