زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
یہ واقعہ کیا تھا اور تاریخ کیوں بن گیا؟ 1388 شمسی بطابق 2009ء ایران کے اسلامی انقلاب کی تاریخ کے چند مشکل لمحات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ دسویں صدارتی انتخابات کے دوران امیدواروں کے سنجیدہ اور شفاف مقابلے نیز عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت نے سیاسی نظام پر لوگوں کے اعتماد میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ کی عزت و وقار کو سربلندی ملی۔
اسلامی انقلاب کے بعد حوزہ علمیہ قم کی مدیریت میں مزید بہتری آئی۔ 27 فروری 1981ء کو حضرت امام خمینی ؓ اور دیگر مراجع عظام کی مشاورت سے حوزہ علمیہ قم کی مدیریت کیلئے پہلا گروہِ مدیریت تشکیل دیا گیا۔ 1992ء میں رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی تجویز اور قم کے دیگر مراجع کرام کی منظوری سے ایک مرتبہ پھر حوزہ علمیہ قم کی سپریم کونسل تشکیل دی گئی۔ اس کونسل نے تمام تر منصوبہ بندی اور اہم فیصلے کیے اور انتظامی کام انتظامی کمیٹی کے سپرد کیا اور دینی مدارس کے مدیران کی تقرری اس کونسل کے سپرد کی گئی۔
اللہ کی اطاعت میں بہترین مددگار مل گیا۔ اور جب ماں کا روپ اختیار کرتی ہیں تو اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کی کہ وہ انسانیت اور اسلام کی بقاء کا باعث بنے۔ حضرت فاطمہ س کے ان تین کرداروں کو ایک جملے میں آپ اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ حضرت فاطمہ س نے بیٹی بیوی اور ماں ہونے کا وہ حق ادا کیا کہ آپ س رسول اللہ ص کی موجودگی میں اپنے خاندان کا تعارف بن گئیں۔
رسول اللہ (صلی الله علیه وآله وسلم) نے مجھ سے فرمایا: جبرائیل (ع) ہر سال قرآن مجید کو ایک بار مجھے پیش کیا کرتے تھے مگر اس سال نے انھوں نے دوبار یہ کام دہرایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب یہ ہے کہ میرا وصال قریب ہے اور آپ میری اہل بیت (ع) میں سب سے پہلے مجھ سے ملحق ہونگی؛ تو میں رونے لگی اور پھر آپ (صلی الله علیه وآله وسلم) نے فرمایا: "أَ ما تَرضِیَنَّ أنْ تکونی سیدة نساء اہل الجنة أو نساء المؤمنین؛ کیا آپ خوشنود نہیں ہوتیں کہ بہشتی خواتین یا با ایمان خواتین کی سیدہ قرار پائیں؟"
بی بی ؑ اپنے بچوں سے جو محبت کرتی تھیں اس کا ایک نمونہ یہ بھی تھا کہ بچوں کے لیے بڑے خوبصورت اشعار بنائے تھے اور بچوں کو اکثر وہ اشعار سنایا کرتیں تھیں
فاطمہ س ہمیشہ تک "راہ" بھی ہے، "نشانی" بھی ہے، "رہنما" بھی ہے، "رہبر" بھی ہے اور مزاحمت کا رول ماڈل بھی ہے۔
بی بی ؑ کا ایثار اور انفاق کسی بھی اللّٰہ والے انسان کی زندگی کا ایک خوبصورت لمحہ وہ ہوتا ہے جب وہ کسی دوسرے خدا کے بندے کی مشکل کو دور کرے۔ ان کی حاجتوں کو پورا کرے، اور خدا ان لمحات سے اتنا مسرور ہوتا ہے کہ خدا کہتا ہے وہ میں ہوں کہ جس کی تو حاجتیں دور کررہا یے، ہم یہ چیز احادیثِ قدسیہ میں دیکھتے ہیں۔ بی بی سلام اللہ علیہا کی زندگی بھری ہوئی ہے ان واقعات سے۔
سیدہ کائنات نے ترویج و بقاء دین مقدس اسلام میں اہم کردار ادا فرمایا ہے آپ نے اپنے خطبات اور اشعار کے ذریعہ دین اسلام کے معارف اور تعلیمات کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کا اہتمام کیا اور اپنے عمل و کردار سے بھی بھرپور انداز سے اسلامی اقدار کی تشریح فرمائی اور آپ نے تربیت اولاد اور عملی اقدامات کی بدولت دین اسلام کی بقاء میں اپنا وافر حصہ ڈالا ہے ۔
آج ہم ایک ایمانی اسلامی معاشرے کے اندر بی بی ؑ کا جو کردار تھا اور بے پناہ درس ہمارے لیے سب اہل ایمان کے لیے یعنی اجتماعی اور معاشرتی جو تعلقات ہیں۔اس حوالے سے بی بی ؑ کا کردار جو ہے اس کو موضوع ِسخن قرار دیں گے۔