زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد شوہر داری کا جو اسلوب اختیار کیا اور جن اصولوں پر کاربند ہوئی وہ پوری دنیا کی عورتوں کے لیے نمونہ عمل ہیں ، جناب سیدہ سلام اللہ علیہا نے شوہر داری کے جو اصول پیش کیے ذیل میں ان میں سے کچھ اہم مطالب کو بعض عناوین کے تحت بیان کیا جائے گا ۔
آپ کو مسٹر ٹرمپ کا دورہ ریاض تو یاد ہوگا۔ یہ مئی 2017ء کا واقعہ ہے۔ اس دورے پر سعودی عرب کے 68 ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے یہ ایران کے خلاف کوئی فیصلہ کُن معرکہ ہے۔ ٹرمپ کی تقریر تو کئی دنوں تک ذرائع ابلاغ پر چھائی رہی۔ ذرائع ابلاغ نے ماحول ایسا بنا دیا تھا کہ بس ایران کو کچھ ہوا کہ ہوا۔ اب جو لوگ حالات حاضرہ پر نظر رکھتے ہیں، اُن سے پوچھ لیجئے۔ وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ اس دورے کے بعد دنیا میں سعودی عرب اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں شدید بحران نہیں بلکہ بھونچال آیا۔
21 اگست 2019ء کو دنیا میں ایک بھونچال سا آیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای نے ایران کے صدر اور دیگر کابینہ ارکان کے ساتھ اہم ملاقات میں ببانگِ دُہل یہ کہا کہ "ہندوستانی حکومت کشمیری مسلمانوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے باز رہے۔"
حضرت فاطمہؑ کا یہ چھوٹا سا گھر اور اس گھر سے تربیت پانے والے افراد جو تعداد کے اعتبار سے تو چار پانچ افراد ہی تھے لیکن حقیقت میں خدا کی تمام قدرت ان میں متجلی تھی
عبادت کے مخصوص اوقات: جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی میں عبادت و دعا کے لئے کچھ مخصوص اوقات خاص اہمیت کے حامل تھے۔ چنانچہ شب جمعہ، عصر جمعہ اور جمعے کے دن غروب آفتاب کا وقت جناب سیدہ کی عبادت و دعا کے خاص اوقات میں شامل تھے۔اسی طرح سحر خیزی اور شب قدر کے ایام میں بھی دعا و مناجات کا خصوصی اہتمام فرماتی تھیں اور اپنے گھر والوں کو بھی ان اوقات میں عبادت کے لئے آمادہ کرتی تھیں۔
بی بی دوعالم کی نظر میں امام کا تصور سیدہ نساء العالمین نے امام کی مفہومی وضاحت کی بجائے، اس کی عینی صفات پر روشنی ڈالی ہے تاکہ عملی اور مصداقی شکل میں امام کا تصور عیاں ہو جائے۔ اس بیان سے بی بی کے نزدیک امامت کا تصور اور اس کی صفات نہایت شفاف انداز میں سامنے آجاتی ہیں کیونکہ آپ نے امامت کی عملی تصویر کو سامنے رکھ کر اس کی صفات کا تذکرہ کیا ہے، جس کے مطابق امام ان صفات کا حامل انسان ہوتا ہے۔
محسن ملت ان چند آگاہ افراد میں سے تھے جنہوں نے امام خمینیؒ کی اس وقت تقلید کی جب کہ ان کا اس علاقہ میں تعارف بھی نہیں تھا۔ اس دوران انہوں نے امام خمینی کی توضیع المسائل اور حکومت اسلامی کا ترجمہ کرکے شائع کرایا۔
شادی کی تقریبات میں سادگی شادی کی تقریبات میں اتنا زیادہ تصنع اور دکھاوا آ گیا ہے کہ غریب آدمی کے لیے شادی ایک خوفناک امر بن چکا ہے پہلے بات لاکھوں تک تھی اور اب ملینز میں چلی گئی ہے۔اس سے معاشرے میں شادی مشکل ہوئی اور جنسی جرائم آسان ہو گئے، ساتھ ساتھ شادی کے لیے وسائل ہر صورت میں فراہم کرنے ہیں تو قرض اور بعض اوقات چوری کی نوبت آ پہنچتی ہے۔حضرت فاطمہ ؑ کی شادی کی تقریبات کو مشعل راہ بنایا جائے تو معاملہ آسان ہو جائے گا روایات میں ہے:
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف طرح طرح کا پراپیگنڈا جاری تھا، انھوں نے اس کے دفاع میں رسائل لکھے اور لوگوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ اپنی مجالس میں بھی امام خمینیؒ کا ذکر کرتے اور انقلاب کی حمایت مختلف انداز سے جاری رکھتے