غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























انہوں نے کہا کہ یہ کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ مذموم مقاصد پر مبنی ملک دشمن دہشت گردوں کی بہیمانہ سازش ہے، پارہ چنار ایک حساس اور دفاعی حوالے سے انتہائی اہم علاقہ ہے، جس کا بدامنی کی لپیٹ میں آنا تشویشناک ہے، ریاست اور سیکورٹی ادارے اس جنگ کو بروقت روکنے میں اپنا عملی کردار ادا کریں۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق صہیونی کشتیوں کے حملے کی وجہ سے مختلف مقامات پر 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ غزہ پر حملوں میں 18 ہزار ٹن بارود استعمال کیا جا چکا ہے جس سے 8 ہزار 306 سے زیادہ مسلمان بھائی شہید اور 1 لاکھ 80 ہزار مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ایک سازش کے تحت پارا چنار میں حالات خراب کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہی لوگ دنیا میں عظیم کارنامے انجام دیتے ہیں اور تاریخ انسانی پر نقش چھوڑتے ہیں جن کے اہداف عظیم ہوتے ہیں۔ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے عظیم اہداف کے لئے جدوجہد کی نصرت الٰہی ان کے ساتھ رہی۔
’’رشیا ٹوڈے‘‘کے مطابق مصر کی الازہر یونیورسٹی نے حماس کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہوئے غزہ کے معصوم عوام کو صبر کا نمونہ اور مثال قرار دیا ہے۔
اراکین نے غزہ میں غاصب اسرائیلی حکومت کے جرائم کے تسلسل، بچوں سمیت عام شہریوں کے قتل عام، الاہلی اسپتال سمیت طبی مراکز پر وحشیانہ حملوں اور صہیونیوں کی جانب سے فاسفورس بموں کے استعمال کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ غیر مسلم ممالک میں لاکھوں انسانوں نے فلسطینیوں کا درد محسوس کیا وہ اپنی حکومتوں کے خلاف سڑکوں پہ نکلے، یہاں تک کہ یہودیوں نے فلسطین کا پرچم اٹھا لیا ظلم کے خلا ف سراپا احتجاج بن گئے۔
علامہ شبیر حسن میثمی کا مزید کہنا تھا کہ پاراچنار چاروں طرف سے محاصرے میں ہے، بے گناہ انسانوں کی جانوں سے کھیلنے والے ملک و قوم کے دشمن ہیں، نگران حکومتیں اور انتظامیہ امن قائم رکھنے کیلئے عملی اقدامات کریں