مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























مجلس علماء امامیہ پاکستان کے 5ویں سالانہ اجتماع کے سلسلے میں ڈاکٹر علامہ سید شفقت حسین شیرازی کی زیر صدارت "عظمت غدیر و عاشوراء‘‘ کانفرنس کا انعقاد ہوا،
یہ عید صرف اہل تشیع سے مخصوص نہیں، غیر شیعہ علماء نے بھی اس روز کی فضیلت اور پیغمبر اکرم ص کی طرف سے حضرت علی ع کے مقام ولایت و خلافت پر فائض ہونے کی گفتگو کی ہے۔ لہذا بیرونی ”الآثار الباقیة “ میں روز غدیر کو ان دنوں میں شمار کرتے ہیں
لوگوں کی مدد کرنا بے حد ثواب کا باعث ہے۔ رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں: کسی مسلمان کی مدد کرنے کے لئےاٹھائے گئے ہر قدم کے بدلے 70 نیکیاں ملتی ہیں اور اس شخص کے 70 گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگوں کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔
اسلام کی خاطر فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے خاندان اور اصحاب سمیت جو عظیم قربانی دی ہے، محرم اس کی یاد کا مہینہ ہے، ہر مسلمان امام حسین علیہ السلام سے عشق کرتا ہے
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ان دنوں وطن عزیز میں متنازعہ مسائل کو بلا جواز قانونی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے ہمیں اس پر شدید تحفظات ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ یکساں قومی نصاب ِتعلیم تمام مکاتب فکر کے لیے قابلِ قبول ہونا چاہیےاور کسی بھی متنازعہ اور غیرمتفق علیہ مواد کو اس میں شامل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علماء سے خطاب کرتے ہوئے مفسرِ قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی نے کہا کہ عمامہ جو علماء کے سروں پر ہے وہ علم وتقویٰ کی علامت ہے، اور علماء کی ذمہ داری عوام کی راہنمائی ہے۔ اور محرم الحرام تبلیغِ دین کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ عاشورہ ایک طاقت ، ایک پلیٹ فارم اور ایک عظیم درسگاہ ہے۔
صوبے کے 8 تعلیمی بورڈز میں مجموعی طور پر 6لاکھ 61 ہزار 558 طلبہ طالبات شریک ہیں۔ پشاور تعلیمی بورڈ نے پرچے کے آؤٹ ہونے جیسی افواہوں کے تدارک کے لئے پیپر امتحانی مراکز سے ہال تک کی ویڈیو بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی علوی گرگانی نے شہر قم میں روح اللہ اسکوائر میں واقع کرونا ویکسینیشن سینٹر نمبر 1 میں جا کر اور دوسرے شہریوں کی طرح اپنی باری کا انتظار کرنے کے بعد ایرانی ویکسین "برکت" کی پہلی ڈوز لگوا لی ہے۔
خطباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خطیب کو چاہیے کہ وہ مجلس، وذکر حسینؑ صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے پڑھے ، اگرتبلیغ کا مقصد وہدف اللہ ہو تو پھر کامیابی یقینی ہے۔ مبلغ دین ، مذہب، اور مدراس علمیہ کا ترجمان ہے لہذا اس کے پیش نظر وہی مقاصد ہونے چاہیے جو انبیاء کرام علیھم السلام اور اولیاء اللہ کے ہوتے ہیں، اور اسے وہی کام کرنا چاہیے جو نمائندگانِ الٰہی بجالاتے ہیں، پھر کامیابی یقینی ہے۔