پاکستان؛ آل شیعہ تنظیموں کے تحت ”شہید امت“ کانفرنس 13 جون کو مینار پاکستان پر منعقد ہوگی
























کیوں ظالموں کی زندگی زیادہ آرام دہ نظر آتی ہے؟ کیوں گناہگار اور ظالم لوگ کم مشکلات میں مبتلا نظر آتے ہیں اور اُن […]
جامعۃ الزہرا میں بھی ایران کے مدارس کی طرح ہر سال جولائی کے مہینے میں داخلہ ٹیسٹ لیا جاتا ہے، جس میں سالانہ 300 سے زائد طالبات شریک ہوتی ہیں؛ لیکن جامعہ کی نشستیں محدود ہونے کی وجہ سے گریجویٹ کے لئے صرف 25 طالبات کو داخلہ دیا جاتا ہے۔یہاں طالبات کو چار سال کے لئے داخلہ دیا جاتا ہے اور ان چار سالوں میں فقہ و معارف کے شعبے میں انہیں بیچلر کی ڈگری دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ وہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے زیر انتظام لئے جانے والے بی اے کے امتحانات میں بھی شرکت کر کے قانونی ڈگری حاصل کر سکتی ہیں۔
آپ کی شخصیت اور آپ کی خدمات سے آشنائی بہت ضروری ہے آپ کے زندگی بھر کے علمی تجربات اور آپ کے حکیمانہ ارشادات ، نئی نسلوں کے لئے بھی چراغ راہ ہوں گے۔
آیت اللہ العظمیٰ سید محمد رضا گلپائیگانی (1899۔1993 ء) شیعہ مراجع تقلید میں سے تھے۔ آپ آیت اللہ بروجردی کی وفات کے بعد مرجعیت کے مقام پر فائز ہوئے۔ آپ آیت اللہ عبدالکریم حائری یزدی کے شاگردوں میں سے تھے۔ آیت اللہ مرتضی حائری، آیت اللہ یزدی، استاد شہید مرتضی مطہری، سید محمد حسینی بہشتی، لطف الله صافی گلپایگانی اورآیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔
علامہ سید محمد دہلوی (1391-1317 ھ) کا شمار پاکستان کے علماء ،خطباء اور مصنفین میں ہوتا ہے۔ برصغیر میں آپ خطیب اعظم سے جانے جاتے ہیں۔ سنہ 1950ء کو پاکستان کی طرف ہجرت کی۔ طلبہ ہاسٹل، یتیم خانے اور لائبریریاں آپ کی سماجی خدمات میں شمار ہوتی ہیں۔ جنوری سنہ 1964ء کو پاکستان میں پہلا شیعہ اجتماعی پلیٹ فارم شیعہ مطالبات کمیٹی اور مجلس علمائے شیعہ پاکستان اور آپ سربراہ منتخب ہوئے۔ شیعہ مطالبات کو حل کرانے میں کلیدی کردار رہا۔ کئی تالیفات کی ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک دستیاب ہے۔
حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر کی تاسیس 1954 میں ہوئی ۔ جناب الحاج شیخ محمد طفیل کو اس عظیم کام کے آغاز کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس وقت کے لاہور کے اہم علاقہ موچی دروازہ میں حسینہ ہال ایک سو روپے ماہوار کرایے پر حاصل کیا گیا ۔
سنہ 1340 ہجری (1921 عیسوی) میں شیخ عبدالکریم حائری کے توسط سے حوزہ علمیہ قم کی تاسیس سے قبل میرزا محمد فیض قمی سنہ 1333 ہجری میں سامرا سے قم واپس آئے اور 1336 سے 1340 ھ تک مدرسہ دارالشفاء اور مدرسہ فیضیہ کی تعمیر نو کا اہتمام کیا جو علمی سرگرمیوں کے لئے استعمال کی قابلیت کھو چکے تھے۔ انہوں نے ان مدارس میں طلبہ کو بسایا۔
مرکز علم و عمل، نجف اشرف سے دروس خارج کی تکمیل آقای سید جواد تبریزی ، آقای سید محمود شیرازی، آقای شیخ عبدالکریم زنجانی، آقای بزرگ تہرانی، آقای سید عبدالاعلی سبزواری اور مرجع اکبر آقای سید محسن الحکیم اعلی اللہ مقامہ سے ہوئی۔ 1960 میں اجازہ اجتہاد لے کر وطن مالوف واپس آیا
تربیت گاہ زینب کبری گلگت کے مدیر حجۃ الاسلام شیخ الطاف حسین انصاری حوزہ علمیہ قم المقدسہ کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت گلگت میں نائب امام جمعہ و الجماعت کے عنوان سے اپنے فرائص انجام دے رہے ہیں۔ اس ادارے میں ان کی اہلیہ بھی ان کی معاونت کر رہی ہیں جو مکتب نرجس مشہد المقدس کی فارغ التحصیل ہیں۔ انہوں نے احکام،شبہات کے جوابات اور مہدویت میں مہارت حاصل کر رکھی ہے۔ تربیت گاہ زینب کبریٰ کے مدیر حجۃ الاسلام شیخ الطاف حسین انصاری سے اپنے ادارے کی کارکردگی اور فعالیتوں کے حوالے سے وفاق ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ 2017 میں قائم ہوا اور گلگت سنٹر میں اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہا ہے جس کا مقصد گلگت بلتستان کے علاوہ پورے پاکستان سے غریب اور یتیم بچیوں کی تربیت اور سرپرستی کرنا ہے۔ جہاں حوزوی تعلیم کے علاوہ مروجہ تعلیم کا بھی بہترین انتظام موجود ہے۔
آیت اللہ بہجت کے بارے میں اکثر لوگ یہی کہتے تھے کہ وہ مخفی چیزوں کو دیکھتے ہیں، لیکن ایسی باتیں ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔ وہ فرماتے تھے کہ اس طرح کی باتوں کی کھوج میں رہنا بری بات ہے۔