دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کوئٹہ ، بنوں ، لکی مروت واقعات پر تشویش اور گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے، غیبت امام کے بعد سے علما نے دین و عقائد کی حفاظت کے لیے مشکلات برداشت کیں، انحرافات کو روکا اور بعض اوقات مقام شہادت تک پہنچے، لیکن عوام کے ایمان پر کوئی حملہ کامیاب نہ ہونے دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "اسنیپ بیک میکانزم" دراصل ایک نفسیاتی کھیل ہے تاکہ ایرانی قوم کو مصنوعی بحران کے ڈر سے مفلوج کر دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ صرف اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے، اور اس راہ میں اسلامی ممالک کو زیادہ سے زیادہ تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پورا ملک اس وقت نبردآزما ہے، ہماری نااہلی ہے اسے محفوظ بناسکیں اور نہ ہی آبی ذخائر تعمیر کرنے کی کوئی منصوبہ بندی کر سکیں۔
آپؒ نے ملت جعفریہ کو سیاسی و مذہبی حوالے سے ایک نمایاں شناخت عطا کی
سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ علی رضا اعرافی نے دوسرے بین الاقوامی کانفرنس برائے رہبران دینی میں کہا ہے کہ دنیا کے تمام دینی رہنماؤں پر لازم ہے کہ فلسطین اور خاص طور پر غزہ کے مسئلے کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھیں اور اس ظلم کے مقابلے میں عملی موقف اختیار کریں۔
علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا: دریائے سندھ میں سپر سیلابی خطرہ ہے۔ پیشگی اطلاعات کے مطابق حکومت اور انتظامی ادارے مل کر ابھی سے کام کو مزید تیز اور بہتر بنائیں۔
قم کی درخشندگی ایک الٰہی اعجاز ہے جس نے دورِ زوالِ دین میں دنیا کو دکھایا کہ اسلام زندہ ہے اور معاشرے کی رہنمائی کر سکتا ہے۔