دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
عزاداران کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ پنجاب پولیس کے نامناسب اور غیر آئینی و غیر قانونی رویے، دھونس دھاندلی کو اتحاد و اتفاق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے مسترد کیا جائے۔ نیز ہر گز ہرگز اپنے بنیادی، شہری، آئینی و قانونی حقوق سے دستبردار ہونے کیلئے کسی قسم کی دھمکیوں میں آئے بغیر کوئی شورٹی بانڈز یا تحریر نہ دی جائے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ پارہ چنار میں قبائل کے درمیان فرقہ وارانہ جنگ کے دوران ایک شخص عید نظر فاروقی مکتب اہل بیت کے خلاف مغلظات کہتا رہا ہے۔ افسوس ہے کہ ابھی تک اس شرپسند کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ اسے گرفتار کیا جائے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ پوی دنیا اور عالم اسلام کی طرح پاکستان میں بھی تمام مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے لوگ امام انسانیت، امام عالی مقام اور ان کے رفقاء کو اپنے اپنے انداز میں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں ان کی یاد مناتے ہیں اسی سلسلے میں مختلف انداز میں مجالس، محافل، جلوس ہائے عزا کا انعقاد ملک کے طول و عرض میں ہوتا ہے۔
جامعہ مدرسین کے ایک گروپ نے رہبر معظم انقلاب اسلامی سے ملاقات کی جس میں انہوں نے تبلیغ کے سلسلے میں بعض نکات اور احکامات کا اظہار کیا۔ جس کے جواب میں حوزہ ہائے علمیہ کے سربراہ آیت اللہ اعرافی نے رہبر معظم کی سفارشات اور رہنما اصولوں کو سراہتے ہوئے ان پر عمل درآمد کی کوششوں پر زور دیا۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ان ہی فورمز کے ذریعہ خاص طور پر صوبہ سندھ میں شہید علامہ حسن ترابی نے بے پناہ خدمات سرانجام دیں
ملت جعفریہ میں تشویش پائی جاتی ہے،ریاستی ادارے حالات معمول پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں
آج، مدارس میں مروجہ نظریہ یہ ہے کہ تبلیغ دوسرے نمبر پر ہے، پہلی جگہ دوسری چیزیں مثلا علمی کام وغیرہ ہیں۔ دوسرا نمبر تبلیغ کا ہے اور ہمیں اس نظرئے سے عبور کر کے تبلیغ کو پہلی ترجیح میں لانا ہوگا۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ افواج پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر کے معصوم شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرکے علاقے میں امن بحال کروائے۔
شیعہ علما ءکونسل کے رہنماو ں نے متنبہ کیا کہ اگر ریاستی ادارے پارا چنار کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو ہم سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ پاکستان بھر سے شیعیان حیدر کرار اپنے غیرت مند محب وطن ایمانی بھائیوں کے تحفظ کے لیے نکلیں۔