غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی تازہ صیہونی خلاف ورزیاں، توپ خانے کی بمباری اور متعدد فلسطینی زخمی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
آج اسوہ ایجوکیشن سسٹم میں موجود کم وبیش 25 ہزار طلباء و طالبات ، 50 ہزار سے زائد فارغ التحصیل بشمول 3051 میڈیکل ، 332 آرمی ،169 سی ایس پی،108 ایم فل پی ایچ ڈی،158 انٹرپنیور ، 434 آئی ٹی ایکسپرٹس ، سینکڑوں انجینیرز و ایجوکیشنسٹس شامل ہیں
سرکار ناصرالملت کا بہت بڑا کتب خانہ تھا آپ نے 16سذل کی عمر میں کتب خانہ میں جانا شروع کیا اور مسلسل ساٹھ سال تک تشریف لے جاتے رہے جسمیں ایک دن بھی ناغہ نہ کیا
29 اگست قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی برسی کا دن ہے۔آپ کی شخصیت افکار اور مثالی کردار علماء تشیع کی تاریخ میں زبان زد عام وخاص ہے
آپکی تصانیف کی تعداد 140 بتای جاتی ہے جنمیں مشہور کتابیں احقاق الحق اور مجالس المومنین ہیں
سحر میں بلا مبالغہ لبنان کی فصیح عربی، ایران کی شیرین فارسی، لکھنؤ کی شستہ اردو اور شگر کی بلیغ و عمیق بلتی کے علاوہ شاعری کے تمام رموز و سحرانگیزیان بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔
آپ علماء میں کثر التصانیف مشہور ہیں آپکی تصانیف و تراجم میں چند کتابیں یہ ہیں
شہید آیت اللہ سید محمد علی آل ہاشم (1962ء-2024ء) ایران کے شہر تبریز کے امام جمعہ اور صوبہ مشرقی آذربائیجان میں رہبر معظم سید علی حسینی خامنہ ای کے نمایندے تھے۔ آل ہاشم مجلس خبرگان رہبری کے چھٹے دورے میں مشرقی آذربائیجان کے عوام کی نمایندگی کی۔ اس کے علاوہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے عقیدتی امور کے شعبے میں بھی اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔
ابراہیم رئیسی مورخہ 14 دسمبر سنہ 1960ء کو مشہد کے محلہ نوغان میں پیدا ہوئے۔ ان کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں کی طرف سے زید بن علی تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے مشہد میں مدرسہ علمیہ نواب سے اپنی دینی تعلیم کا آغاز کیا اور سنہ 1975ء میں قم آئے اور حوزہ علمیہ قم میں اپنی تعلیم کو جاری رکھا
ابراہیم رئیسی نے حوزہ علمیہ کے فاضل اساتذہ اور بزرگ علماء کرام جن میں آیت اللہ مشکینی ، آیت اللہ العظمی نوری ھمدانی اور آیت اللہ العظمی مرحوم فاضل لنکرانی شامل ہیں؛ سے کسب فیض کیا۔