صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار ’’زیمان‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں، دائیں بازو کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون ساز ’’ایمیت حالوی‘‘ نے مسلمانوں کے لیے تیسرا مقدس ترین مقام مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں اور یہودیوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی۔
مجلس برسی امام خمینیؒ سے علامہ مرزا یوسف حسین نے خطاب کرتے ہوئے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ امام خمینی ایک الہی شخصیت تھے، امام خمینیؒ کے افکار معاشرے کو زندگی دینے والے افکار تھے، ان کی فکر مسلمان امتوں کے لئے نجات کا باعث ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ امام خمینیؒ کے نظریات کے پرچار کے لئے اقدامات کئے جائیں۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں علامہ شہنشاہ نقوی کا کہنا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور پاکستان سے وفاداری ہمارا نصب العین ہے اور حسینیت و پاکستانیت ہماری پہچان و تعرف ہے، تشکیلِ پاکستان سے تعمیر پاکستان تک ہمارے بزرگوں کا قابلِ ذکر کردار ہے لہٰذا وطن سے پیار ہمارے رگ و پے میں بسا ہوا ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ آج پاکستان سیاسی، عدالتی،پارلیمانی ، انتظامی اور مالی لحاظ سے بھی بحران کا شکار ہے۔ اکثر لوگ خط غربت سے انتہائی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
بدبخت ملعون احسن باکسر نے امام مہدیؑ کی شان میں بے ہودہ گفتگو کرکے امت مسلمہ کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ ملت اسلامیہ میں امام مہدی علیہ السلام کی گستاخی پر تشویش پائی جاتی ہے۔
ایک بیان میں ایس یو سی کراچی کے صدر نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسی نظام اور نظریہ کی پیروی کریں جس سے مسلم امہ کا وقار بلند ہو اور اسلامی دنیا ترقی کرسکے کیونکہ اسلام دشمن قوتیں نہیں چاہتیں کہ مسلمان مضبوط ہوں اور اسلامی دنیا مستحکم ہو۔
اتحاد امت فورم پاکستان کے وفد سے گفتگو میں وفاق المدارس الشیعہ کے صدر کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور پولیس کا رویہ تشویشناک اور افسوسناک ہے، آئمہ اطہار کی شان میں گستاخی کسی طور بھی قبول نہیں کی جائے گی
کانفرنس پاکستان اور امن دوست قوتوں اور شیعہ سنی ہم آہنگی میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی
ترجمان مذہبی امور کے مطابق مکہ مکرمہ میں پاکستانی عازمین کی تعداد 30 ہزارتک پہنچ گئی ، مدینہ منورہ میں 16 ہزار عازمین موجود ہیں۔