رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای جامع شخصیت کے مالک اور بہترین کمانڈر
























شہید امت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، آغاز ان قلاب سے لے کر عالمی جنگ تک، سپاہ و فوج کے کمانڈرز کی زبان میں، دنیا کی بڑی خبر رسانی ایجنسیوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ خامنہ ای شہید صرف ایک روحانی پیشوا نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی ذہنیت کے مالک تھے،
دائره امتحانات کے سربراہ حجۃ الاسلام سید علی رضا نقوی نے قم میں “وفاق ٹائمز” آفس کے دورے کے دوران وفاق ٹائمز کی تأسیس کو مدارس کے لئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کا یہ آفیشل خبررساں ادارہ ہونے کی وجہ سے امید کرتے ہیں کہ دینی مدارس کی فعالیتوں اور علمائے کرام کی انتہک کاوشوں کو دنیا کے گوشہ و کنار تک پہنچائے گا۔
وفاق ٹائمز کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اور وفاق المدارس الشیعہ پاکستان شعبہ قم کے مدیر حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی اور چیف ایڈیٹر محمد ابراہیم صابری نے علماء کا دفتر میں استقبال کیا اور ان کو وفاق ٹائمز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی.
خواہشمن حضرات مقررہ تاریخ سے پہلے اپنے کوائف دئیے گئیے ایڈریس پر ایمیل کریں۔تاخیر سے موصول ہونے والے کوائف پر غور نہیں کیا جائے گا۔
گلگت بلتستان میں سیاحت کے ساتھ عریانی، بے حیائی ، فحاشی ، شراب اور گانے تیزی سے پھیل رہے ہیں جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے،
جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں اپنے تعلیمی سفر کے آغاز کیلئے داخلہ کا اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے نبی اکرم(ص) کے چچا کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے بیان کیاکہ حضرت حمزہ(ع) برجستہ خصوصیات اور خصلتوں کے مالک تھے۔ وہ شجاعت اور جنگجوئی میں شہرت رکھتے تھے اور "فرسان قریش" سے مشہور تھے۔ حضرت حمزہ(ع) نبی اکرم(ص) کے قریبی ساتھی تھے۔
مدرسے کی جانب سے ہر ہفتے دینی تعلیم کے حصول کے لیے دین شناسی کے عنوان سے کلاسز منعقد کی جاتی ہیں جو ہر ہفتے اتوار کے دن صبح 9بجے اور دوپہر میں منعقد ہوتی ہیں
"حسن نوریان" نے آج جمعہ کے دن اپنے ایک بیان میں کہاکہ ایرانی حکومت اور عوام خطے کی اقوام کے مشترکہ دشمنوں کی طرف سے کسی بهی قسم کی بدامنی، انتشار اور خوف پهیلانے والے دہشت گردی پر مشتمل اقدامات کی مذمت کرتے ہیں.
انہوں نے مسئلہ فلسطین کو دنیا میں اجاگر کرنے کے حوالے سے شیرین ابوعاقلہ کو غاصب صہیونی حکومت کے خلاف میڈیا کی تحریک کا پرچمدار قرار دیتے ہوئے کہاکہ خواتین کو اس میدان میں شمولیت اختیار کرنی چاہیئے، آج دنیا میں خواتین صحافیوں کی تعداد بہت کم ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے۔